لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

مزنیہ کی بیٹی سے نکاح حرام ہے ? از مفتی صدام حسین فیضی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

مزنیہ کی بیٹی سے نکاح حرام ہے

مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ مفتی صاحب ایک مسئلہ درپیش ہے رہنمائی فرمائیں مفتی صاحب میرا ایک دوست ہے ایک عورت سے پچھلے دس سالوں سے اس کے ناجائز تعلقات تھے ناجائز طور پر اس نے اس کو ہاتھ لگا یا اور اس عورت کی ایک جوان بیٹی بھی ہے جس کی عمر بیس سال سے زیادہ ہے اب وہ شخص اس کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتا ہے جس پہ وہ عورت بھی راضی ہے تو کیا وہ نکاح کرسکتا ہے ؟ المستفتی عبد الماجد ملتان پاکستان۔ بسم ﷲ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب صورت مسئولہ میں شخص مذکور کا نکاح کرنا حرام ہے کہ مزنیہ عورت کے اصول و فروع سے نکاح حرام ہے۔ علامہ علاء الدين حصکفی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: ” و حرم أيضا بالصهرية اصل مزنيته اراد بالزني الوطي الحرام. وفروعهن مطلقاً ” اه‍ ملخصا (درمختار مع رد المحتار ، ج٤، ص١٠٧، کتاب النکاح ، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان) حضور اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں: "اگر یہ بیان واقعی ہے کہ زید اس نکاح سے پہلے ہندہ کو ناجائز طور پر ہاتھ لگا چکاتھا تو اس کا یہ نکاح کہ ہندہ کی بیٹی سے کیا گیا محض ناجائز وحرام ہوا، اس پر فرض ہے کہ فورا اس سے دست بردار ہو ” اھ (فتاوی رضویہ جدید ،ج١١، ص٣٢٦، کتاب النکاح ، باب المحرمات ، رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ تعالیٰ ورسولہﷺ اعلم بالصواب۔ کتبہ: گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات