بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1237 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
مزار پر سجدہ کرنا کیساہے ؟
ابورضا محمد عمران عطاری مدنی الجواب بعون الملک الوھاب مزارات پر جہاں بہت ساری خرافات دیکھنے کو ملتی ہیں، انہیں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جاہِل قسم کے لوگ مزارات پر سجدہ کرتے نظر آتے ہیں، ہماری شریعت میں غیر خدا کو سجدہ جائز نہیں، کسی صاحب مزار کے لئے بخیال عزت و تحیۃ سجدہ کیا جائے تو وہ ناجائز و حرام ہوگا، اور اگر بہ نیت عبادت سجدہ کیا جائے تو وہ کفر و شرک ہے، خلاصہ کلام مزارات اولیا پر کسی بھی نیت سے سجدہ کرنا جائز نہیں ہے- (سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں، کہ مزار کو سجدہ درکنار، کسی قبر کے سامنے اللہ عزوجل کو سجدہ جائز نہیں، اگر چہ قبلہ کی طرف ہو- (فتاویٰ رضویہ جلد،22 صفحہ 476 رضا فاؤنڈیشن لاہور) مطالعہ فرما کر شیئر ضرور کریں
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ