دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1437
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
مزاروں پر جاکر اپنی حاجتوں کی تکمیل کیلئے دعاء مانگنا کیسا ہے؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
9,657
سوال (Question):
مزاروں پر جاکر اپنی حاجتوں کی تکمیل کیلئے دعاء مانگنا کیسا ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
مزاروں پر جاکر اپنی حاجتوں کی تکمیل کیلئے دعاء مانگنا کیسا ہے؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ لوگ جو جاتے ہیں مزاروں میں اولاد کے لیے دعا کرتے کہ میرے اولاد ہو جائے تو کیا ایسا دعا کرنا کیسا ہے مزاروں پر جاکے اس کا جواب قرآن و حدیث کی روشنی میں دینگے تو مہربانی ہوگی ســـائل: محمــد ارباز عـالم نـوری بہار ضلـع کشن گنج انڈیا الجــوابـــــــــــ بعون الملک الوہاب صورت مسئولہ میں شریعت مطہرہ کی روشنی میں مزاروں پر جاکر اللہ عزوجل کے اولیاء کو مخاطب کرکے اولاد کے لئے دعاء کرنا، اپنی حاجت بیان کرنا اوران سے مددمانگناجائزہے۔اللہ عزوجل کے نیک بندوں سے مددمانگنے کے جوازپرقرآن واحادیث شاہد ہیں ۔اللہ عزوجل قرآن کریم میں ارشادفرماتاہے:﴿ اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللہُ وَ رَسُوۡلُہٗ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوا الَّذِیۡنَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَہُمْ رٰکِعُوۡنَ ﴾ تر جمہ کنز الایمان ،یعنی اے مسلمانو! تمہار ا دوست نہیں مگر اللہ اور اس کا رسول اور ایمان والے کہ نماز قائم کرتےہیں، اور زکوۃ دیتے ہیں اور اللہ کے حضور جھکے ہوئے ہیں ۔ (پارہ ،٦ص،٢٢٦,سورۃ المائدۃ،آیت 55) امام اہلسنت اعلی حضرت الشاہ احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن اس مضمون کی سترہ احادیث نقل کرنے کے بعدتحریرفرماتے ہیں، انصاف کی آنکھیں کہاں ہیں ؟ ذرا ایمان کی نگاہ سے دیکھیں یہ سولہ بلکہ سترہ حدیثیں کیسا صاف صاف واشگاف فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنے نیک امتیوں سے استعانت کرنے ان سے حاجتیں مانگنے، ان سے خیر واحسان کرنے کاحکم دیا کہ وہ تمھاری حاجتیں بکشادہ پیشانی روا کریں گے، ان سے مانگو تو رزق پاؤ گے،مرادیں پاؤ گے، ان کے دامن حمایت میں چین کرو گے ان کے سایہ عنایت میں عیش اٹھاؤ گے۔یارب! مگر استعانت اور کس چیز کانام ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا صورت استعانت ہوگی، پھر حضرات اولیاء سے زیادہ کون سا امتی نیک ورحم دل ہوگا کہ ان سے استعانت شرک ٹھہرا کہ اس سے حاجتیں مانگنے کا حکم دیاجائے گا، الحمدللہ حق کا آفتاب بے پردہ وحجاب روشن ہوا۔“ (فتاوی رضویہ،جلد٢١،صفحہ٣١٧،رضافاؤنڈیشن،لاھور) (وھکذا فتاوی رضویہ رضا فاؤنڈیشن لاھور ج،٢١ص،٣٠٣) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبـــــہ:حضرت علامہ مولانا محمد منظـــورا لقادری صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی خادم التدریس لدرجات العالیہ دارالعلوم اہلسنت معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج (یوپی)
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat