لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

مری ہوئ مچھلی کھانا کیوں حلال ہے ؟ / مری ہوئی مچھلی کی وجہ ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

مری ہوئ مچھلی کھانا کیوں حلال ہے ؟

سوال : مردار کھانا اسلام میں حرام ہے جب کہ مچھلی ہم مری ہوئی کھاتے ہیں اس میں کیا حکمت ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ مری ہوئی مچھلی کیوں حلال ہے تو یہ اللہ جانے اور اللہ کے رسول جانیں، ہمارے لیے تو حدیث پاک حجت ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ” احلت لنا میتتان السمک والجراد ” ہمارے لیے دو مردار حلال کئے گئے ایک مچھلی اور دوسری ٹڈی لہذا حضور نے جو فرمایا اس پر ہمارا ایمان ہے ۔ حکمت یہ ہوسکتی ہے کہ دوسرے جانور جنہیں ذبح کرنے کا حکم دیا گیا ہے ان کے اندر بہتا ہوا خون پایا جاتا ہے اور بہتے ہوئے خون میں یورک ایسڈ یعنی تیزابی مادہ پایا جاتا ہے، اس کو کھانے سے تیزابی کیفیت پیدا ہو گی جس سے بیماریاں پیدا ہو نگی اور جسم کے جوڑوں میں درد ہوگا ۔ اس لیے حکم ہے کہ ان کو ذبح کرکے خون بہا دیا جائے اور مچھلی میں کوئی خون پایا نہیں جاتا جس میں یورک ایسیڈ ہو یا تیزابی کیفیت ہو جو نقصان دہ ہوں اس لیے مچھلی کو ذبح کرنے کی ضرورت نہیں یہی حال ٹڈی کا بھی ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات