لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

مریض کو خون کا عطیہ (Blood Donation) دینا

کیا مسلمان اپنا خون کسی دوسرے مسلمان یا غیر مسلم کو عطیہ کر سکتا ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

شریعت میں خون دینا اصلاً ممنوع ہے کیونکہ یہ انسانی جسم کا حصہ ہے۔ لیکن موجودہ دور میں شدید ضرورت اور جان بچانے کی غرض سے ماہر ڈاکٹر کے مشورے پر خون کا عطیہ دینا بالکل جائز اور باعثِ اجر (جان بچانے کا ثواب) ہے۔ خون مسلمان کو دیا جائے یا کافر کو، دونوں صورتوں میں جائز ہے۔ خون بیچنا حرام ہے۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات