لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

مرغی ذبح کرتے ہوئے پوری گردن کٹ جائے تو کیا مرغی حلال رہے گی یا حرام ہو جائے گی؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

مرغی مرغا ذبح کرتے ہوئے پوری گردن کٹ جائے تو

سوال: مرغی ذبح کرتے ہوئے پوری گردن کٹ جائے تو کیا مرغی حلال رہے گی یا حرام ہو جائے گی؟ سائل : عمیر احمد، مسجد وخانقاہ امدادیہ امداد نگر مالیگاؤں الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب اگر ذبح کے دوران مرغی کا پورا گلا کٹ گیا یعنی الگ ہوگیا تو ایسی مرغی کا گوشت حلال ہے، البتہ جان بوجھ کر اتنا زیادہ ذبح کرنا مکروہ ہے۔ فتاویٰ ھندیہ میں موجود ہے.. (کتاب الذبائح، 287/5) ویستحب الاکتفاء بقطع الاوداج ولا یباین الراس ولو فعل یکرہ۔ کسی بھی حلال جانور اور پرندے کو ذبح کرتے وقت قصداً گردن الگ کردینا مکروہ عمل ہے، کیونکہ اس میں جانور کو ضرورت سے زیادہ تکلیف دینا پایا جاتا ہے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں اس کی ممانعت وارد ہوئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ہر ایک مخلوق کے ساتھ احسان و خوبی کا برتاؤ کرنے کو ضروری قرار دیا ہے۔ اگر کسی (مجرم) کو قتل کرو تو مناسب صورت سے قتل کرو (کہ اس کو زیادہ تکلیف نہ ہو) اور جانور کو ذبح کرو تو مناسب صورت سے ذبح کرو (کہ زیادہ تکلیف نہ ہوجائے) اور چھری تیز رکھو ۔ اس طرح جانور کے لئے سہولت کی کوشش کرو (یعنی چھری پھیرنے سے پہلے اور چھری پھیرنے کے بعد ایسا کام نہ کرو جس سے جانور کو تکلیف پہنچے۔ اور یہ یاد رکھیں کہ. جانور اور پرندہ اس صورت میں بھی حلال ہوجاتا ہے اور اس کا کھانا بلاکراہت درست ہے، اس لیے کہ ذبح میں جن رگوں کا کاٹنا ضروری ہے وہ اس صورت میں بھی کٹ جاتی ہیں، اور اگر غلطی سے گردن الگ ہوجائے تو مکروہ بھی نہیں۔ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ : ثِنْتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : ” إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ فَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ۔ (صحیح المسلم، رقم : ١٩٥٥) (وَ) كُرِهَ كُلُّ تَعْذِيبٍ بِلَا فَائِدَةٍ مِثْلُ (قَطْعِ الرَّأْسِ وَالسَّلْخِ قَبْلَ أَنْ تَبْرُدَ) أَيْ تَسْكُنَ عَنْ الِاضْطِرَابِ۔ (شامی : ٦/٢٩٦) وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات