بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1637 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
مرد و عورت کے لیے کالا خضاب لگانے کے بارے میں کیا شرعی حکم ہے ؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ – کیا فر ما تے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مرد و عورت کے لیے کالا خضاب لگانے کے بارے میں کیا شرعی حکم ہے- اور کیا کسی حالت میں سیاہ خضاب لگانا جائز بھی ہے-اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمہ نے خضاب کے بارے میں کیا لکھا ہے تفصیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں ؟ (سائل عبدالقدیر عطاری پاکستان) وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ اَلـجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَھَّاب (سیاہ خضاب کے متعلق حدیث شریف میں ممانعت آئی ہے، مرد و عورت دونوں کے لیے اپنے بالوں میں لگانا نا جائز و گناہ ہے، تفصیل درج ذیل ہے ۔ حدیث شریف میں ہے : وعن ابن عباس عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال، یکون قوم فی اٰخر الزمان یخضبون بھذا السواد کحوا صل الحمام لا یجدون رائحۃ الجنۃ- یعنی حضرت سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، آخری زمانے میں ایک قوم ہوگی جو اس سیاہی سے خضاب کیا کرے گی جیسے کبوتروں کے پوٹے وہ جنت کی خوشبو تک نہ پائیں گے.. سنن أبی داؤد-باب ما جاء فی خضاب السواد-جلد2-صفحہ-226) حکیم الامت مفتی احمد یارخان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں، اس حدیث سے صراحۃً معلوم ہوا کہ سیاہ خضاب حرام ہے، خواہ سر میں لگائے یا داڑھی میں ، مرد لگائے یا عورت، اس سے معذوری کی حالت مستثنیٰ ہے، علاج کے لیے، یا غزوہ کے لیے سیاہ خضاب جائز ہے، بعض لوگ مطلقاً سیاہ خضاب جائز کہتے ہیں، بعض لوگ عورتوں کے لیے جائز کہتے ہیں، بعض مردوں کے سر کے لیے جائز کہتے ہیں، داڑھی کے لیے ممنوع مانتے ہیں، بعض لوگ مکروہ تنزیہی کہتے ہیں، یہ کل ضعیف ہیں، صحیح وہ ہی ہے کہ سیاہ خضاب مطلقاً مکروہ تحریمی ہے ۔ مرد و عورت سر داڑھی سب اسی ممانعت میں داخل ہیں ۔ (مرأۃالمناجیح-جلد-6صفحہ-140) امام اہلسنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں، حدیث شریف میں سیاہ خضاب سے مطلقاً منع کیا گیا تو جو چیز بالوں کو سیاہ کرے خواہ نیل یا مہندی کا میل یا کوئ تیل غرضیکہ کچھ ہو سب ناجائز وحرام ہیں- (فتاویٰ رضویہ جلد9صفحہ32- اور مزید تحریر فرماتے ہیں، شاہر عدل ہے کہ عورت اس کی زیادہ محتاج ہے، کہ شوہر کی نگاہ میں آراستہ ہو جب اسے یہ امور تغیر خلق اللہ کے سبب حرام و موجب لعنت ہے، تو مرد پر بدرجۂ اولیٰ- (فتاویٰ رضویہ جلد9صفحہ192) فتاویٰ بریلی شریف صفحہ68 پر ہے : سیاہ خضاب یا ایسی مہندی جس سے بال کالے ہو جائیں لگانا جائز نہیں ہے، سیاہ خضاب جہاد کے سوا مطلقاً حرام ہے- (بہار شریعت میں درمختار کےحوالہ سے ہے) مرد کو داڑھی اور سر وغیرہ کے بالوں میں خضاب لگانا جائز بلکہ مستحب ہے، مگر سیاہ خضاب لگانا منع ہے، ہاں مجاہد کو سیاہ خضاب بھی جائز ہے کہ دشمن کی نظر میں اس کی وجہ سے ہیبت بیٹھے گی- (بہار شریعت حصہ-16-صفحہ-597-زینت کابیان) (الدر المختار کتاب الحظرو الاباحۃ-جلد9صفحہ696) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ کتبــــــــــــــــــــــہ : ابورضا قاری محمد عمران عطاری مدنی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ