لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

مردے کو کفن دیتے وقت اس کے ہاتھ کہاں رکھے جائیں سینے پر یا پہلو میں ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

مردے کو کفن دیتے وقت اس کے ہاتھ کہاں رکھے جائیں سینے پر یا پہلو میں ؟

مردے کو کفن دیتے وقت اس کے ہاتھ کہاں رکھے جائیں سینے پر یا پہلو میں بعض مقامات پر سینے پر یا ناف کے نیچے رکھتے ہیں درست طریقہ کیا ہے؟ بیان فرماکر عند اللہ ماجور ہوں۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــ صحیح اور مسنون طریقہ یہ ہے کہ مردے کو کفن دیتے وقت اس کے ہاتھ پہلو میں سیدھے رکھے جائیں میت کے سینے پر یا ناف کے نیچے ہاتھ رکھنا غلط اور کفار کا طریقہ ہے ۔ درمختار میں ہے : "ویوضع یداہ فی جانبیہ لا علی صدرہ لانہ من عمل الکفار” اھ ترجمہ : اور میت کے ہاتھ پہلو میں رکھے جائیں نہ کہ سینے پر کیوں کہ یہ کفار کا طریقہ ہے ۔ (الدرالمختار مع ردالمحتار : ج: 3، ص: 105، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنائز) فتاوٰی فیض الرسول میں ہے : میت کا ہاتھ سینے پر رکھنا غلط ہے مسنون طریقہ یہ ہے کہ ہاتھ میت کے پہلو میں رکھے جائیں کما صرح بہ نورالایضاح ” وتوضع یداہ بجنبیہ ولا یجوز وضعھما علی صدرہ " ترجمہ: یعنی میت کے ہاتھ پہلو میں رکھے جائیں سینے پر رکھنا جائز نہیں ۔ فقہاے کرام نے سینے پر ہاتھ رکھنا اس لیے منع فرمایا کہ یہ یہودیوں اور نصرانیوں کا طریقہ ہے کما قال فی مراقی الفلاح :” لانہ صنع اھل الکتاب " ترجمہ : اس لیے کہ سینے پر ہاتھ رکھنے کا طریقہ اہل کتاب یعنی یہودی وغیرہ کا ہے ” اھ (نورالایضاح مع مراقی الفلاح ص 286/287 / فتاوٰی فیض الرسول : ج: 1 ص: 442، کتاب الجنائز) بہار شریعت میں ہے : میت کے دونوں ہاتھ کروٹوں میں رکھیں سینہ پر نہ رکھیں کہ یہ کفار کا طریقہ ہے ۔ بعض جگہ ناف کے نیچے اس طرح رکھتے ہیں جیسے نماز کے قیام میں یہ بھی نہ کریں” اھ (بہار شریعت : ج: 1 ، ح: 4 ، ص: 816 ، میت کے نہلانے کا بیان ) واللہ تعالٰی اعلم     عبدالقادر المصباحی الجامعی کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ مقام : مہیپت گنج، ضلع : گونڈہ، یوپی، انڈیا ١٢ جمادی الاوّل ١٤٤٣ھ

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات