بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1629 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
مردے کو دفن کرنے کے بعد چالیس قدم چلنا پھر دعا مانگنا ضروری ہے ؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ : کیافرماتےہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں ہم نے یہ سناہے کہ مردے کو دفن کرنے کے بعد چالیس قدم چلیں پھر دعا مانگے کیا ایسا کرنا لازمی ہے ؟ اور میت کو دفن کرنے کے بعد کونسی آیات پڑھنے کا حکم ہے؟ سائل :غلام دستگیر عطاری وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ الجـــــوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب (1) میت کو دفن کرنے کے بعد دعاکرنا توکسی بھی وقت جائز ہے چالیس(40)قدم پرکوئ لازم نہیں ہے ۔ امام اہلسنت "مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ تحریر فرماتے ہیں :کہ دعا مانگنا ہروقت جائزہے، اور چالیس قدم کی خصوصیت بلاوجہ فتاویٰ رضویہ قدیم جلد ۴صفحہ نمبر ۱۶۳) فتاویٰ مرکز ترتیب افتاء جلد ١صفحہ نمبر ۳۸۱) (2)مستحب یہ ہے کہ دفن کے بعد قبر پر سورۂ بقر کا اوّل و آخر پڑھیں سرہانے الٓمّٓ سے مُفْلِحُوْنَ تک اور پائنتی اٰمَنَ الرَّسُوْلُ سے ختم سورت تک پڑھیں) (الجوھرۃ النیرۃ ‘‘ کتاب الصلاۃ، باب الجنائز، صفحہ ۱۴۱) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ کتبــــــــــــــــــــــہ :ابورضا محمدعمران عطاری مدنی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ