صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #393 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

پرائز بانڈ (Prize Bond) کی رقم پر زکوٰۃ کا حساب

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: August 12, 2026
0 4,868

سوال (Question):

میرے پاس 5 لاکھ کے پرائز بانڈ ہیں، زکوٰۃ کیسے نکالوں اور انعام نکلا تو کیا حکم ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

پرائز بانڈز چونکہ نقد رقم (Cash) کا حکم رکھتے ہیں، اس لیے ان کی اصل مالیت (Face value) پر سال گزرنے کے بعد زکوٰۃ فرض ہے۔ البتہ پرائز بانڈز پر ملنے والا انعام سود اور جوا ہے جو کہ حرام ہے۔ انعام کی رقم استعمال کرنا جائز نہیں، اسے بغیر ثواب کی نیت کے غریبوں کو دینا واجب ہے۔ زکوٰۃ صرف اصل 5 لاکھ پر ہو گی۔ واللہ اعلم۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat