لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

پرائز بانڈ (Prize Bond) کی رقم پر زکوٰۃ کا حساب

میرے پاس 5 لاکھ کے پرائز بانڈ ہیں، زکوٰۃ کیسے نکالوں اور انعام نکلا تو کیا حکم ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

پرائز بانڈز چونکہ نقد رقم (Cash) کا حکم رکھتے ہیں، اس لیے ان کی اصل مالیت (Face value) پر سال گزرنے کے بعد زکوٰۃ فرض ہے۔ البتہ پرائز بانڈز پر ملنے والا انعام سود اور جوا ہے جو کہ حرام ہے۔ انعام کی رقم استعمال کرنا جائز نہیں، اسے بغیر ثواب کی نیت کے غریبوں کو دینا واجب ہے۔ زکوٰۃ صرف اصل 5 لاکھ پر ہو گی۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات