بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1461 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
مرحوم کے نام سے قربانی کرنا کیسا ہے ؟
سوال : کیا کسی مرحوم کے نام سے قربانی کر سکتے ہیں یا نہیں جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی؟ سائل : محمد صدام قریشی مالیگاؤں الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب مرحوم کے نام سےبھی قربانی کر سکتے ہیں، کیونکہ قربانی اللہ تعالیٰ کے لئے ہے، اور اس کا ثواب جتنے مسلمانوں کوپہنچانا چاہے اگر چہ عام امت مرحومہ کو تو قربانی درست ہوگی، اور ثواب سب کو پہنچے گا اور ۔فتاوی رضویہ میں ردالمحتار کے حوالے سے ہے ردالمحتار میں ہے من ضحی عن المیت یصنع کما یصنع فی اضحیۃنفسہ من التصدق والاکل والاجر للمیت و الملک للذابح قال الصدر والمختار انہ ان بامر المیت لایاکل منہا والا یاکل بزازیۃ۱؎۔ اگرمیت کی طرف سے قربانی کی تو صدقہ اور کھانے میں اپنی ذاتی قربانی والا معاملہ کیا جائے اور اجر وثواب میت کے لئے ہوگا اور ملکیت ذبح کرنے والے کی ہوگی، فرمایا صدر نے اور مختاریہ ہے کہ اگر میت کی وصیت پر قربانی اس کے لئے کی تو خود نہ کھائے ورنہ کھائے۔ بزازیہ۔ (ت) (ردالمحتارکتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۳۰۷) اور فقیر کا معمول ہے کہ قربانی ہر سال اپنے حضرت والد ماجد خاتم المحققین قدس سرہ، العزیز کی طر ف سے کرتاہے اور اس کا گوشت پوست سب تصدق کردیتاہے اور ایک قربانی حضور اقدس سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف سے کرتا ہے اور اس کا گوشت پوست سب نذر حضرات سادات کرام کرتاہے.. تقبل ﷲ تعالٰی منی ومن المسلمین (آمین) ، (اللہ تعالٰی میری طرف اور سب مسلمانوں کی طرف سے قبول فرمائے، آمین(ت) ( فتاوی رضویہ جلد 20 قربانی کا بیان صفحہ نمبر 455) اور بہار شریعت میں ہے میت کی طرف سے قربانی کی تو اوس کے گوشت کا بھی وہی حکم ہے کہ خود کھائے دوست احباب کو دے فقیروں کو دے یہ ضرور نہیں کہ سارا گوشت فقیروں ہی کو دے کیوں کہ گوشت اس کی مِلک ہے یہ سب کچھ کرسکتا ہے اور اگر میت نے کہہ دیا ہے کہ میری طرف سے قربانی کر دینا تو اس میں سے نہ کھائے بلکہ کل گوشت صدقہ کر دے. ( بہار شریعت جلد سوم حصہ 15 قربانی کا بیان صفحہ نمبر 345) لہذا معلوم ہوا کہ میت کے طرف سے قربانی کرنا جائز ہے اور کرے گا تو ثواب کا مستحق ہوگا۔اور اس کا ثواب میت کو بھی پہنچے گا.. وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبــــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ