دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #462
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
غسل میں ناف اور کانوں کے سوراخ دھونا
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: August 12, 2026
0
6,492
سوال (Question):
کیا غسل کے دوران ناف اور کانوں کے سوراخوں میں پانی پہنچانا ضروری ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
جی ہاں، غسل میں پورے جسم پر ایک بار پانی بہانا فرض ہے کہ سوئی کی نوک برابر جگہ بھی خشک نہ رہے۔ ناف کے اندر تک پانی پہنچانے کے لیے انگلی سے دھونا ضروری ہے۔ اسی طرح اگر عورت نے کانوں یا ناک میں سوراخ کروائے ہوں تو ان کے اندر پانی پہنچانا فرض ہے۔ اگر بالیاں پہنی ہوں تو انہیں ہلا لیں تاکہ پانی اندر چلا جائے۔ واللہ اعلم۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat