دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #62
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
محلے میں کمیٹی (Committee / BC) ڈالنے کا شرعی حکم
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: August 12, 2026
0
8,149
سوال (Question):
محلے یا دفتر میں لوگ مل کر جو پیسوں کی کمیٹی (بی سی) ڈالتے ہیں، کیا یہ حلال ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
مروجہ کمیٹی (Committee) کی شرعی حیثیت ‘باہمی قرضِ حسنہ’ کی ہے۔ تمام لوگ ایک دوسرے کو قرض دیتے ہیں اور قرعہ اندازی کے ذریعے ایک شخص پورا قرض اٹھا لیتا ہے۔ یہ عمل شرعاً بالکل جائز ہے، بشرطیکہ ہر شخص جتنی رقم جمع کروائے، اسے واپس بھی اتنی ہی ملے، کمی بیشی (سود) نہ ہو اور بولی لگا کر کمیٹی نہ خریدی جائے۔ واللہ اعلم۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat