لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

ماتم کرنا کیساہے؟ ۔ ماتم کرنے والوں کو کیا سزا ملے گی ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

ماتم کرنا کیساہے؟

سوال : کچھ لوگ ماہ محرم میں سینہ پیٹتے ہیں اور ماتم کرتے ہیں شرعایہ فعل کیساھے؟ سائل : محمد رضا نوری ممبئی الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب کسی کے غم میں سینہ کوبی نوحہ وماتم ارتکاب حرام وگناہ ھے کہ پیغمبرخد ا صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ھے ۔ ليس منا من ضرب الخدود وشق الجيوب ود عا بد عوة الجاہليهه ،، جو چہروں پر طمانچہ مارے اورگریبان پھاڑے اور جاہلیت والے بول بولے (نوحہ کرے) وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔۔ فتاوی بحرالعلوم جلد 4 صفحہ 394 علامہ ابن حجر کی ہیتمی قدس سرہ لکھتے ہیں ، ،، وإياه ثم إياه أن يشغله ببدع الرافضة ونحوهم من الندب والنياحة والحزن إذ ليس ذالك من أخلاق المومنين وإلالکان یوم وفاتہ أولى وأحر ى ،، ترجمہ:- عاشورا کے د ن شیعہ حضرات نوحہ وماتم اورچیخ و پکارکی شکل میں جو بدعات و خرافات انجام دیتے ہیں، ان سے سختی کے ساتھ بچو کیوں کہ مسلمانوں کا یہ طریقہ نہیں ۔ . ( اگر امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر غم و ماتم کرنا جائز و درست ہوتا ) تو حضور ﷺ کے یوم وفات پرغم وماتم کر نازیاده اولی اور لائق تر ہوتا ۔۔ ( الصواعق المحرقہ صفحہ 183 ) اور یہ بھی یاد رکھیں کہ. جس طرح ماتم کرنا اور اس میں شریک ہونا گناہ اور ناجائز ہے، اسی طرح اسے دیکھنے کے لیے جانا کثرت کا سبب بننے کی وجہ سے ناجائز اور گناہ ہے،کیوں کہ دیکھنے والا اگرچہ اس میں شریک نہیں ہے لیکن دوسرے لوگ یہی سمجھیں گے کہ یہ شریکِ ماتم ہے،لہذا ماتم دیکھنے کے لیے جانا بھی ناجائز ہے. واللہ اعلم بالصواب

 کیا محرم میں مچھلی کھانا منع ھے ؟

سوال : کیا محرم میں مچھلی کھانا منع ھے ۔۔؟ سائل : محمد ذاکر منصوری مالیگاؤں الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب مچھلی کا کھانا کسی د ن منع نہیں ھے ، بعض جہلا یہ کہتے ہیں کہ ایام محرم میں مچھلی کھانا نہ چاہیئے یہ بالکل بے اصل ھے ۔۔۔ ( فتاو ی بریلی شریف صفحہ 302 ) وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبہ :محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات