لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

مؤذن اذان دے رہا ہو تو اذان سننے والے کے لیے کیا حکم ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

مؤذن اذان دے رہا ہو تو اذان سننے والے کے لیے کیا حکم ہے؟

الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب مرد ہو یا عورت جو کوئی بھی اذان سنے تو اسے اذان کا جواب دینے کا حکم ہے۔ سننے والا بھی وہی الفاظ کہے جو مؤذن کہتا ہے۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ، فَقُوْلُوْا مِثْلَ مَا يَقُوْلُ الْمُؤَذِّنُ ۔  بخاری، الصحيح، کتاب الاذان، باب ما يقول اذا سمع المنادی، 1 : 221، رقم : 586 ’’جب تم اذان سنو، تو اُسی طرح کہو جس طرح مؤذن کہہ رہا ہو۔‘‘ لیکن جب مؤذن حَیَّ عَلَی الصَّلٰوة اور حَیَّ عَلَی الْفَلَاح کہے تو سننے والے کو یہی الفاظ نہیں بلکہ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاﷲِ کہنا چاہیے جیسا کہ حدیث مبارکہ سے ثابت ہے : قَالَ يَحيی : وَحَدَّثَنِي بَعْضُ إِخْوَانِنَا : أَنَّهُ قَالَ : لَمَّا قَالَ حَيَّ عَلَی الصَّلاةِ، قَالَ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّهَ اِلاَّ بِاﷲِ، وَقَالَ : هٰکَذَا سَمِعْنَا نَبِيَّکُمْ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ ۔   بخاری، الصحيح، کتاب الأذان، باب ما يقول اذا سمع المنادي، 1 : 222، رقم : 588 ’’حضرت یحییٰ کا بیان ہے کہ مجھ سے میرے بعض بھائیوں نے بیان کیا کہ مؤذن نے جب حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃ… کہا تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاﷲِ پڑھا اور کہا : میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح کہتے ہوئے سنا ہے۔‘‘ اسی طرح فجر کی اذان میں جب مؤذن اَلصَّلٰوةُ خَيْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کہے تو سامع کو قَدْ صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ کہنا چاہیے ۔ وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبــــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات