دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2087
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
لڑکی کی شادی پانچ سال کی عمر میں ہوئی اب بالغ ہوکر جانے سے انکار کرتی ہے تو کیا حکم ہے؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
10,369
سوال (Question):
لڑکی کی شادی پانچ سال کی عمر میں ہوئی اب بالغ ہوکر جانے سے انکار کرتی ہے تو کیا حکم ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
لڑکی کی شادی پانچ سال کی عمر میں ہوئی اب بالغ ہوکر جانے سے انکار کرتی ہے تو کیا حکم ہے؟
سوال : زید کی شادی ہندہ سے پانچ سال کی عمر میں ہوئی اب ہندہ بالغہ ہے اور اپنے شوہر کے پاس ابھی تک نہ گئی اور نہ جانا ہی چاہتی ہے تو اس کے بارے میں شرعی احکام سے مطلع فرمائیں. الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــ صورت مسؤلہ میں پانچ سال کے عمر میں اگر ہندہ کا نکاح اس کے باپ یا دادا نے کیا تھا یا ان میں سے کسی کی اجازت سے دوسرے نے کیا تھا یا دوسرے نے بغیراجازت کردیا تھا مگر بعد میں باپ یا دادا نے اسے جائز قرار دیا تھا تو ان تمام صورتوں میں نکاح لازم ہوگیا. ہندہ کا انکار فضول ہے زید اس کا شوہر اس سے طلاق حاصل کیے بغیر دوسرا نکاح ہرگز نہیں کر سکتی. فتاویٰ عالمگیری جلد اول مصری صفحہ 276 میں ہے ” ان زوجھما الاب اوالجد فلا خیار لھما بعد بلوغھما کذا فی الھدایۃ ” یہاں تک باپ یا دادا نے اگر میں بہت زیادہ کمی کے ساتھ یا غیر کفؤ کے ساتھ کیا تو بھی نکاح لازم ہو گیا. ہاں اگر ہندہ کے نکاح سے پہلے اس کا باپ یا دادا دوسری لڑکی کا نکاح کسی غیر کفؤ کے ساتھ کرچکاتھا، پھر ہندہ کا نکاح غیر کفؤ سے کیا تو جائز نہ ہوا. در مختار میں ہے ” لزم النکاح بغیر کفؤ ان کان الولی ابا او جدا لم یعرف منھما سوء الاختیار وان عرف لا یصح النکاح اتفاقاً ١ھ ملخصا. اور اگر باپ دادا کے علاوہ کسی اور نے ہندہ کا نکاح حالت نابالغی میں غیر کفو یا مہر مثل میں بہت زیادہ کمی کے ساتھ کیا تھا تو اس صورت میں نکاح جائز نہ ہوا. درمختار میں ہے ” ان کان المزوج غیرھما ای غیر الاب وابیہ لا یصح النکاح من غیر کفؤ اصلا ” اور اگر باپ دادا کے غیر نے کفؤ سے مہر مثل کے ساتھ کیا تو نکاح جائز ہو گیا مگر اس صورت میں بالغ ہوتے ہی ہندہ فوراً فسخ نکاح کر سکتی تھی اور اگر کچھ بھی وقفہ ہوا تو اختیار فسخ جاتا رہا یہاں تک کہ آخری مجلس تک اختیار نہیں اور اس مسئلہ کو نہ جاننے کا عذر عند الشرع مسموع نہیں. واللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 680
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat