صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #1747 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

لڑکا اچھا نہیں تو نکاح نہ کرے وعدہ خلافی کا گناہ نہیں

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 9,699

سوال (Question):

لڑکا اچھا نہیں تو نکاح نہ کرے وعدہ خلافی کا گناہ نہیں

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

لڑکا اچھا نہیں تو نکاح نہ کرے وعدہ خلافی کا گناہ نہیں

ایک سال ہوا زید اپنی بیٹی ہندہ کے نکاح کا وعدہ بکر کے لڑکے سے کرچکا اب معلوم ہوا کہ بکر کے لڑکے کی عادتیں اچھی نہیں وہ شرابی و جواڑی ہے اس لئے وہ اپنی بیٹی کا نکاح بکر کے لڑکے سے نہیں کرنا چاہتا ہے تو کیا شرعاً اس پر وعدہ خلافی کا گناہ ہوگا یا نہیں ؟ المستفتی غلام رسول سورت گجرات انڈیا۔ بسم ﷲ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب صورت مستفسرہ میں زید پر کوئی گناہ نہیں کہ عذر شرعی ہو تو وعدہ خلافي پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ فتاوی رضویہ مترجم میں ہے: ” اور اگر وعدہ سچے دل سے کیا پھر کوئی عذر مقبول وسبب معقول پیدا ہواتو وفا نہ کرنے میں کچھ حرج کیا ادنی کراہت بھی نہیں جبکہ اس عذر ومصلحت کو اس وفائے وعدہ کی خوبی وفضیلت پر ترجیح ہو خصوصا امر نکاح میں کہ عمر بھر کے ساتھ کا سامان اور سخت نازک معاملہ ہے خصوصا بے چاری شریف زادیوں کے لئے خصوصا بلاد ہندوستان میں، پس اگر نسبت کے بعد کوئی حرج ونقصان ظاہر ہو نسبت چھڑالی جائے ورنہ اپنی زبان پالنے کےلئے ایک بے کس بے زبان کو عمر بھر مضرت میں پھنساناہوگا ” (جلد12 صفحہ281 کتاب النکاح، باب القسم) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ : گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat