لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

لوگوں کا عقیدہ ہے کہ خدا حاضر و ناظر ہے تو یہ درست ہے یا نہیں؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

لوگوں کا عقیدہ ہے کہ خدا حاضر و ناظر ہے تو یہ درست ہے یا نہیں؟

سوال: (1) ہم لوگوں کا عقیدہ ہے کہ خدا حاضر و ناظر ہے تو یہ درست ہے یا نہیں؟ اور کیا یہ عقیدہ رکھنے والا اسلام سے خارج ہو جاتا ہے؟ (2) جب لوگ ایک جگہ بیٹھ کر بات چیت کرتے ہیں تو ان کے درمیان خدا موجود ہوتا ہے یہ کہنا چاہیے یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــ (1) اگر حاضر و ناظر بمعنی شہید اور بصیر اعتقاد رکھتے ہیں یعنی ہر موجود اللہ تعالی کے سامنے ہے اور وہ ہر موجود کو دیکھتا ہے تو یہ عقیدہ حق ہے ۔ مگر اس عقیدہ کی تعبیر لفظ حاضر و ناظر سے کرنا یعنی اللہ تعالیٰ کے بارے میں حاضر و ناظر کا لفظ استعمال کرنا نہیں چاہیے ۔ لیکن اگر پھر بھی کوئی شخص اس لفظ کو اللہ تعالی کے بارے میں بولے تو وہ کفر نہ ہوگا جیسا کہ در مختار مع شامی جلد سوم ص 307 میں ہے ‘‘ یا حاضر یا ناظر لیس بکفر وھو اعلم ” (2) جب لوگ ایک جگہ بیٹھ کر بات چیت کرتے ہیں تو ان کے درمیان خدا موجود ہوتا ہے یہ نہیں کہنا چاہیے ، اس لیے کہ اللہ تعالی جگہ اور مکان سے پاک ہے ۔ عقائد نسفی میں ہے " لا یتمکن فی مکان ” اس کے تحت شرح عقائد نسفی میں ص 23 پر ہے ” اذالم یکن فی مکان لم یکن گی جھۃ لا علو ولا سفل ولا غیرھما ” اور وہ جو پارہ 28 رکوع 2 میں ہے ” ما یکون من نجوی ثلثۃ الا ھو رابعھم” تو اس آیت کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی انہیں مشاہدہ فرماتا ہے اور ان کے رازوں کو جانتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے درمیان خدا تعالی موجود ہوتا ہے ۔ تفسیر جلالین میں ہے” ھو رابعھم بعلمہ " اور علامہ صاوی نے فرمایا ” قولہ بعلمہ ای بسمعہ و بصرہ ومتعلق بہھم قدرتہ و ارادتہ” اور تفسیر مدارک میں اس کے تحت ہے "یعلم ما یتناجون بہ ولا یخفی علیہ وقد تعالی عن الامکان علوا کبیرا ۔ وھو تعالی اعلم کتبــــــــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات