بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2325 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
لحن کے ساتھ اذان کہی گئی تو ہوگئی یا اعادہ کرنا ہوگا؟
کیا فرماتے علماے کرام ومفتیان ذوی الاحترام کہ لحن کے ساتھ اذان کہی گئی تو ہوگئی یا اعادہ کرنا ہوگا؟ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الجواب بعون الملک الوھابــــــــــــ اذان میں لحن حرام ہے یعنی گانے کے طرز پر اذان دینا یا اذان کے کلمات میں لحن کرنا مثلا اللہ اکبر کے ہمزہ کو مد کے ساتھ آللہ یا آکبر یا اکبار پڑھنا وغیرہ ایسی دی ہوئی اذان نہیں ہوگی اس کا اعادہ کرنا واجب ہے۔ درمختار میں ہے : ” ولاترجیع فانہ مکروہ ملتقی ولا لحن فیہ ای تغنی” اھ (الدرالمختار مع ردالمحتار : ج: 2، ص: 65، کتاب : الصلاۃ، باب: الاذان) مغنی میں ہے : ” ویکرہ اللحن فی الاذان ” اھ (المغنی : ج: 2، ص: 90، باب الاذان) فتاوی الہندیہ میں ہے : ” ویکرہ التلحین وھو التغنی بحیث یودّی الی تغیر کلمات کذا فی شرح المجمع لابن الملک” اھ (الفتاوی الھندیۃ : ج: 1،ص: 56، کتاب : الصلاۃ، الفصل الثانی فی کلمات الاذان ) بہار شریعت میں ہے : ” کلمات اذان میں لحن حرام ہے، مثلا اللہ یا اکبر کے ہمزے کو مد کے ساتھ آللہ یا آکبر پڑھنا، یوہیں اکبر میں بے کے بعد الف پڑھانا حرام ہے ۔” اھ (بہار شریعت : ج: 1، ح: 3، ص: 468، اذان کا بیان) واللہ تعالٰی اعلم عبدالقادر المصباحی الجامعی کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ مقام: مہیپت گنج، ضلع گونڈہ، یوپی، انڈیا۔ ٧ جمادی الاوّل ١٤٤٣ھ
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ