صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #1954 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

لاؤ کاغذ میں میں ابھی طلاق دیتا ہوں یا میں طلاق دے سکتا ہوں تو کیا حکم ہے ؟

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 5,792

سوال (Question):

لاؤ کاغذ میں میں ابھی طلاق دیتا ہوں یا میں طلاق دے سکتا ہوں تو کیا حکم ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

لاؤ کاغذ میں میں ابھی طلاق دیتا ہوں یا میں طلاق دے سکتا ہوں تو کیا حکم ہے ؟

سوال :اقبال احمد بن محمد رضا مرحوم ساکن گائے گھاٹ بازار ضلع بستی نے میرے اور چند نمازی مسلمانوں کے سامنے اوجھا گنج کی جامع مسجد کے ممبر پر ہاتھ رکھ کر یوں بیان دیا کہ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے یا تو یہ کہا ہے کہ لاؤ کاغذ میں میں ابھی طلاق دیتا ہوں اور یا تو یہ کہا ہے کہ میں طلاق دے سکتا ہوں اور یا تو یہ کہا کہ میں طلاق دے دوں گا۔ پس اگر میرا یہ بیان جھوٹا ہو تو غازی میاں مجھے کوئی اور اندھا کر دیں۔ الجوابـــــــــــــــــــــــــــ اقبال احمد نے جب اس طرح حلفیہ بیان دیا تو اسے صحیح مان لیا گیا اور مذکورہ بالا تین جملوں میں سے کسی جملہ سے بھی اس کی بیوی پر طلاق نہیں پڑی اس لیے وقوع طلاق کا حکم نہیں کیا گیا وہ بدستور سابق اقبال احمد کی بیوی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ كتبه: مفتی جلال الدين احمد الامجدي

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat