بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1954 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
لاؤ کاغذ میں میں ابھی طلاق دیتا ہوں یا میں طلاق دے سکتا ہوں تو کیا حکم ہے ؟
سوال :اقبال احمد بن محمد رضا مرحوم ساکن گائے گھاٹ بازار ضلع بستی نے میرے اور چند نمازی مسلمانوں کے سامنے اوجھا گنج کی جامع مسجد کے ممبر پر ہاتھ رکھ کر یوں بیان دیا کہ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے یا تو یہ کہا ہے کہ لاؤ کاغذ میں میں ابھی طلاق دیتا ہوں اور یا تو یہ کہا ہے کہ میں طلاق دے سکتا ہوں اور یا تو یہ کہا کہ میں طلاق دے دوں گا۔ پس اگر میرا یہ بیان جھوٹا ہو تو غازی میاں مجھے کوئی اور اندھا کر دیں۔ الجوابـــــــــــــــــــــــــــ اقبال احمد نے جب اس طرح حلفیہ بیان دیا تو اسے صحیح مان لیا گیا اور مذکورہ بالا تین جملوں میں سے کسی جملہ سے بھی اس کی بیوی پر طلاق نہیں پڑی اس لیے وقوع طلاق کا حکم نہیں کیا گیا وہ بدستور سابق اقبال احمد کی بیوی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ كتبه: مفتی جلال الدين احمد الامجدي
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ