بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1523 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
قے (الٹی ہونے) سے روزہ ٹوٹنے کا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ روزے کی حالت میں مسواک کرتے وقت اگر کھانے کی بمٹ (الٹی) ہوجایے تو روزے کا کیا حکم ہے؟ جواب عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔ سائل: عبدالجبار علیمی مقیم حال جمدا شاہی بستی الجوابـــــــــــــــ روزہ یاد نہ ہونے کی حالت میں کسی طرح کی قے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اور اگر روزہ دار ہونا یاد ہے تو دو صورتیں ہیں: پہلی صورت یہ ہے کہ قے قلیل ہو یعنی منہ بھر نہ ہو۔ اس کی صرف ایک صورت میں روزہ ٹوٹتا ہے جس کا وجود بہت شاذ )نادر) ہے۔اور وہ یہ ہے کہ منہ سے علاحدہ ہوجانے کے بعد قلیل قے کا کچھ حصہ کوئی حلق سے نیچے اتارے۔بقیہ قلیل قے کی دیگر صورتوں میں روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ جیسے(١) قصداً قے کرنا (٢) قلیل قے کا کچھ حصہ بلا قصد حلق کے نیچے لوٹ جانا۔(٣) قلیل قے کا کچھ حصہ قصداً حلق سے نیچے لوٹانا، بشرطے کہ اس تیسری شکل میں منہ سے علاحدہ نہ ہوجائے۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ قے کثیر یعنی منہ بھر ہو۔اس کی دو صورتوں میں روزہ فاسد ہوجاتا ہے: (١) قصداً منہ بھر قے کرنا۔(٢) منہ بھر قے ہونے کی صورت میں قصداً کوئی جز حلق سے نیچے لوٹانا۔ لیکن اگر منہ بھر قے ہونے کی صورت میں کوئی جز بلا قصد حلق سے نیچے لوٹ جائے تو روزہ نہ ٹوٹے گا۔ امام اہل سنت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: "والحاصل ان ما دون ملء الفم لا یفسد مطلقا، وان اعادہ ذاکراً صومہ، ای: قبل خروجہ من فیہ، فانہ ان اعاد الساقط والعیاذ باللہ تعالی افسد مطلقا اجماعاً بلا کفارة، الا ان یکون نسی الصوم۔ واما ما کام ملء الفم فیشترط فی الافساد بہ شرطان، احدھما صنع الصائم اما فی اخراجہ، وھو الاستقاء، او ادخالہ وھو الاعادة۔والثانی ان یکون ذلک الصنع وھو ذاکر للصوم، فان فقد احد ہذین الشرطین لم یفسد ما کان ملء الفم ایضا مطلقا، فافھم۔” (جد الممتار، کتاب الصوم، ج٢ ص٢٠٦) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ١۵/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ١٧/اپریل ٢٠٢٢ء
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ