بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1644 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
قسم کی کتنی اقسام ہیں اور قسم کا کفارہ کیاہے؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ” کیافرماتےہیں علمائےدین اس مسئلہ کے بارے میں کہ قسم کی کتنی اقسام ہیں اور قسم کا کفارہ کیاہے؟ (سائل محمد شاہد عطاری لاہور) وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ الجـــــوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب قسم کی تین قسمیں ہیں (1) یمینِ لَغْو یعنی غلط فہمی کی قسم، یہ وہ قسم ہے کہ آدمی کسی واقعہ کو اپنے خیال میں صحیح جان کر قسم کھالے اور حقیقت میں وہ ایسا نہ ہو ایسی قسم پر کفارہ نہیں) (2)– یمینِ غَموس یعنی جھوٹی قسم ،کسی گزشتہ واقعے کے متعلق جان بوجھ کرجھوٹی قسم کھانا یہ حرام ہے) (3)– یمینِ مُنعقدہ جو کسی آئندہ کے معاملے پر اسے پورا کرنے یا پورا نہ کرنے کیلئے کھائی جائے، کسی صحیح معاملے پر کھائی گئی ایسی قسم توڑنا منع بھی ہے اور اس پر کفارہ بھی لازم ہے۔ قسم کی تیسری صورت پر ہی کفارہ لازم آتا ہے) قسم کا کفارہ (1)اگر کوئی قسم توڑے تو ایک غلام آزاد کرے ۔ (2)یا دس مسکینوں کو دو وقت پیٹ بھر درمیانے درجے کا کھانا کھلائے ۔ (3) یا دس مسکینوں کو کپڑے پہنائے ۔ ان تینوں میں سے کوئی بھی طریقہ اختیار کرنے کی اجازت ہے اور اگر تینوں میں سے کسی کی بھی طاقت نہ ہو تو مسلسل تین روزے رکھنا کفارہ ہے ۔ (تفسیرصراط الجنان-جلد-3-صفحہ18) (ھدایہ شریف میں ہے) فان لم یقدر علی احد الاشیاء صام ثلاثۃ ایام متتابعات.. یعنی اگر مذکورہ تین کاموں میں سے کسی کی قدرت نہ ہو تو پھر لگاتار تین دن کے روزے رکھنے ہوں گے. (ھدایہ مع فتح القدیر،کتاب الایمان،فصل فی الکفارۃ،جلد5،صفحہ 76، مطبوعہ کوئٹہ) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ کتبــــــــــــــــــــــہ : ابورضاقاری محمد عمران عطاری مدنی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ