دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2765
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
قرض پر زکوۃ کا حکم / زکوۃ کے اہم مسائل از مفتی نظام الدین
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
7,042
سوال (Question):
قرض پر زکوۃ کا حکم / زکوۃ کے اہم مسائل از مفتی نظام الدین
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
قرض پر زکوۃ کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین،مسلہ ذیل میں کہ زید نے بکر سے ایک لمبی رقم بذریعہ مال قرض لیا،اور زید اس رقم کو دینے کا ارادہ بھی رکھتا ہے مگر کیٔ سالوں سے ادا نہی کر رہا ہے ۔ تو کیا بکر کو مال مقروض کی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی،اور کب تک ادا کرنی ہوگی ۔ جواب عنایت فرماکر عند اللہ ماجور ہوں۔ المستفتی۔ غلام عبد القادر علیمی الجواب :قرض پر زکوۃ کا حکم بکر پر قرض کی رقم پر ہرسال زکاة واجب ہوگی ۔ لیکن ادائیگی اس وقت واجب ہےجب اپنے قرض سےنصاب زکاة کا کم از کم پانچواں حصہ وصول ہوجائے ۔ مگر اتنے حصہ کی ہی زکاة ادا کرنی لازم ہے جتنا حصہ واپس ہوا، اگر کل وصول ہوا تو کل کی ورنہ نصاب کے ہر پانچویں حصہ کے وصول ہونے پر اس کی زکاة واجب الادا ہوگی ۔ مان لیجئے بکر نے زید کو دو لاکھ روپیہ قرض دیا اور مان لیجیے کہ چالیس ہزار روپیہ میں نصاب زکاة مکمل ہوتا ہے ۔ اب ایک سال زکاة گزر جانےکے بعد زید نے قرض سے آٹھ ہزار روپیے بکر کو واپس کیے تو بکر کو اس آٹھ ہزار سے دو سو روپیہ ادا کرنا واجب ہے ۔ پھر اس نے دوسرا سال زکاة مکمل ہونے پر باقی ایک لاکھ بانوے ہزار روپیہ بکر کو واپس کیے تو اب اس رقم (ایک لاکھ بانوے ہزار)پر دو سال کی زکاة ادا کرنی ہوگی ۔ لیکن پہلے سال زکاة کے لیے پورےایک لاکھ بانوے ہزار کی زکاة چارہزار آٹھ سو ادا کرے اور دوسرے سال زکاة کے لیے ایک لاکھ بانوے ہزار سے پہلے سال کی زکاة چار ہزار آٹھ سو کم کرکے باقی رقم کی زکاة ادا کرے ۔ یعنی ایک لاکھ ستاسی ہزار دو سو کی زکاة چار ہزار چھ سو اسی(4680) روپیہ ادا کرے ۔ اور چوں کہ قرض پر سال بسال زکاة واجب ہے اس لیے آسان یہ ہے کہ ہر سال زکاة مکمل ہونے پر پورے قرض کی زکاة دیدیا کرے ۔ علامہ علاو الدین حصکفی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: (وَ) اعْلَمْ أَنَّ الدُّيُونَ عِنْدَ الْإِمَامِ ثَلَاثَةٌ: قَوِيٌّ، وَمُتَوَسِّطٌ، وَضَعِيفٌ؛ (فَتَجِبُ) زَكَاتُهَا إذَا تَمَّ نِصَابًا وَحَالَ الْحَوْلُ، لَكِنْ لَا فَوْرًا بَلْ (عِنْدَ قَبْضِ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا مِنْ الدَّيْنِ) الْقَوِيِّ كَقَرْضٍ (وَبَدَلِ مَالِ تِجَارَةٍ) فَكُلَّمَا قَبَضَ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا يَلْزَمُهُ دِرْهَمٌ” (در مختارج ٣ ص٢٣٦، ٢٣٧) صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: دَین قوی کی زکاۃ بحالتِ دَین ہی سال بہ سال واجب ہوتی رہے گی، مگر واجب الادا اُس وقت ہے جب پانچواں حصہ نصاب کا وصول ہو جائے ۔مگر جتنا وصول ہوا اتنے ہی کی واجب الادا ہے یعنی چالیس درم وصول ہونے سے ایک درم دینا واجب ہوگا ۔ اور اسّی ۸۰ وصول ہوئے تو دو درہم ۔ وعلیٰ ہذا القیاس” (بہار شریعت حصہ۵ ص٩٠٦) اور بکر پر اپنے قرض کی رقم پر اس وقت تک زکاة واجب ہوگی جب تک تنہا اس قرض کی رقم کی وجہ سے یادوسرے مال زکاة (سونا چاندی کرنسی نوٹ یا مال تجارت) کے ساتھ اس قرض کو ملانےکی وجہ سے مالک نصاب باقی رہے ۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کتبہ : محمد نظام الدین قادری۔ خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی۔ یوپی۔ ۴/رمضان المبارک ١۴۴٢ھ//١٧/اپریل ٢٠٢١ءکیا زید اپنی بہوؤں کے زیورات کا مالک ہوگا ۔ زکوۃ کے اہم مسائل
وہ جس کی آمد سے چاروں جانب ہے جگ میں تازہ بہار تم ہو
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat