لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

قرض وصول کرتے وقت پانچ سو زیادہ لینا کیسا ہے؟ از مفتی محمد صدام حسین فیضی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

قرض وصول کرتے وقت پانچ سو زیادہ لینا کیسا ہے؟

محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔

زید نے بکر کو پانچ ہزار روپیہ قرض دیا بعد میں بکر اسے اپنی خوشی سے پانچ سو روپیہ زیادہ دیا زید کہتا ہے میں پانچ سو زیادہ نہیں لے سکتا یہ سود ہے میرے لئے جائز نہیں ہے لیکن بکر کہتا ہے میں اپنی خوشی سے دے رہا ہوں اس لئے آپ لے سکتے ہیں عرض یہ ہے کہ کیا زید وہ روپیہ لے سکتا ہے مدلل جواب عنایت فرمائیں اور عند اللہ ماجور ہوں۔
المستفتی: محمد رضا بھاؤ نگر گجرات انڈیا
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب -بعون الملک الوھاب-لے سکتا ہے اگر ادھار دیتے وقت پانچ سو زیادہ لینے کی شرط نہ لگائی ہو نہ ہی وہاں اس کا رواج ہو کہ زیادتی عقد میں مشروط نہ ہو نہ ہی اس کا رواج ہو کہ المعروف کالمشروط اور قرض لینے والا اپنی خوشی سے دے تو یہ سود نہیں اس کا لینا یقیناً جائز ہے۔
فتاوی امجدیہ میں ہے:
"سود اس زیادتی کو کہتے ہیں جو عقد میں مشروط ہو اور اگر عقد میں شرط نہ ہو وقت ادا کچھ زیادہ دیا تو یہ سود نہیں” اھ (ج٣، ص٢٠٦، مطبوعہ دائرۃ المعارف الامجدیہ گھوسی) واللہ تعالیٰ ورسولہﷺ اعلم بالصواب۔

کتبہ: محمد صدام حسین برکاتی فیضی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات