صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #1579 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

قرض دے کر زیادہ وصول کرنا سود اور حرام ہے

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 10,577

سوال (Question):

قرض دے کر زیادہ وصول کرنا سود اور حرام ہے

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

قرض دے کر زیادہ وصول کرنا سود اور حرام ہے

کیا فرماتے ہیں ،علماء کرام ، و مفتیان عظام ، مسئلہ ذیل میں: کہ زید ، خالد، بکر وغیرہ لکڑی کا کاروبار کرتے ہیں، مثلا کسان سے لکڑی خریدتے ہیں 550 میں۔ پھر فیکٹری میں بطور ادھار فروخت کر دیتے ہیں 650 میں ۔ اسکے بعد لکڑی کی پرچی کسی اور کو فروخت کر دیتے ہیں600 میں۔ تو اس طریقہ سے منافع لینا درست ہے یا نہیں؟ المستفتی : محمد مرتضیٰ رامپوری الجواب لکڑی کا کاروبار کرنے والوں کا کسانوں سے پانچ سو پچاس میں خرید کر فیکٹری والوں سے چھ سو پچاس کے بدلے ادھار بیچنے میں کوئی شرعی ممانعت نہیں ہے۔ البتہ 650 والی لکڑی کی پرچی دے کر 600 روپیہ لینا اور پھر اس پرچی لینے والے کا فیکٹری سے 650 وصول کرنا سودی معاملہ اور ناجائز و حرام ہے؛ کیوں کہ در حقیقت یہاں اس پرچی کی خریداری کسی کا مقصود نہیں ہوتی۔بلکہ600 دے کر پرچی لینے والے نے یہ 600 روپیہ قرض دیا ہے، اور یہ قرض دینے والا قرض لینے والے سے اپنے 600 قرض کے بدلے وہ 650 روپیہ وصول کرے گا جو اس قرض لینے والے کا فیکٹری کے ذمہ باقی ہے۔اور حدیث شریف کے فرمان کے مطابق قرض دے کر نفع اٹھانا سود اور حرام ہے۔رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “کل قرض جرّ منفعة فھو ربا”۔(کنز العمال ٦ /۲۳۸) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔٢٦/شعبان المعظم ١۴۴٣ھ //٣٠/مارچ ٢٠٢٢ء

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat