بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1660 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
قرض دیئے گئے پیسہ کی زکاۃ کا حکم
سوال یہ ہے کہ زید نے بکر کو 25 ہزار روپیہ قرض دیا ہے اور بکر ابھی قرض واپس نہیں کیا ہے، کرے گا بھی تو ایک یا دو سال میں کرے گا، تو کیا زید نے جو قرض دیا ہے ان روپیوں کی بھی زکوٰۃ زید پر فرض ہے یا قرض ملنے کے بعد فرض ہوگی شریعت مطہرہ کی روشنی میں جواب عنایت فرماکر عند اللہ ماجور ہوں۔ العارض: محمد سعید علیمی . ساکن: بسڈیلہ پوسٹ چائی کلاں ضلع سنت کبیر نگر یوپی۔ باسمہ تعالی و تقدس الجواب بعون الملک الوھاب جو مال قرض میں پھیلا ہوا ہے اس کی زکاۃ قرض دینے والے پر واجب ہے البتہ اس زکاۃ کی ادائے گی اس وقت واجب ہوگی جب وہ مال مل جائے اور اگر قرض ملنے سے پہلے ہی اس کی زکاۃ ادا کردی تو ادا ہوجائے گی فتاوی رضویہ میں ہے "جو روپیہ قرض میں پھیلا ہوا ہے اس کی بھی زکاۃ لازم ہے مگر جب بقدر نصاب یا خمس نصاب وصول ہوا اس وقت ادا واجب ہوگی جتنے برس گزرے ہوں سب کا حساب لگا کر”(ج ۴ ص ۴۳۲) اس ارشاد سے واضح ہوا کہ اگر زید مالک نصاب ہے تو اس نے جو قرض ۲۵ ہزار روپیہ دیا ہے اس کی زکاۃ فرض ہے البتہ ادا کرنا اس وقت ضروری ہے جب وہ روپیہ مل جائے۔ واللہ تعالی اعلم کتبہ: محمد اختر حسین قادری صدر شعبۂ افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی و قاضئ شہر ضلع خلیل آباد یوپی انڈیا ۱۹ رمضان المبارک ۱۴۴۲ھ
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ