صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #325 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

پیسوں کی کمیٹی (B.C) ڈالنے کا شرعی حکم

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: August 12, 2026
0 6,527

سوال (Question):

کیا عام پیسوں کی کمیٹی (بی سی) ڈالنا جائز ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

اگر کمیٹی اس طرح ہو کہ سب لوگ برابر پیسے ڈالیں اور باری باری سب کو پوری رقم مل جائے (یہ قرضِ حسنہ کی ایک شکل ہے)، تو یہ بالکل جائز ہے۔ لیکن اگر کمیٹی بولی (نیلامی) کے ذریعے کھلے، جس میں رقم کٹ کر ملے، تو یہ سود اور قمار ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔ واللہ اعلم۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat