صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #248 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

ڈراپ شپنگ (Drop-shipping) کا شرعی حکم

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: August 12, 2026
0 13,080

سوال (Question):

کیا ڈراپ شپنگ (جس میں بیچنے والے کے پاس مال نہیں ہوتا وہ آرڈر لے کر دوسرے سے بھجواتا ہے) جائز ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

شریعت میں جو چیز ملکیت اور قبضے میں نہ ہو اسے بیچنا منع ہے۔ روایتی ڈراپ شپنگ ناجائز ہے۔ البتہ اس کا جواز ‘بیعِ سلم’ یا ‘وکالت’ (کمیشن ایجنٹ بن کر) کی شرط پر کیا جا سکتا ہے۔ واللہ اعلم۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat