دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1454
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
قربانی کی کھال کسے دی جائے؟ مسجد میں دے سکتے ہیں ؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
7,855
سوال (Question):
قربانی کی کھال کسے دی جائے؟ مسجد میں دے سکتے ہیں ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
قربانی کی کھال کسے دی جائے؟ مسجد میں دے سکتے ہیں ؟
مسئلہ: کیا فرماتے ہیں ہیں علمائے دین و ملت اس مسئلہ میں کہ قربانی کی کھال کس کو دینا چاہیے اور اور کس کو نہیں دینا چاہیے،مسجد کے کام میں میں کھال کا پیسہ لگانا جائز ہے یا نہیں؟ المستفتی: امتیاز احمد رضوی، ڈھور گلی میرج شریف سانگلی،مہاراشٹر الجوابـــــــــــــ قربانی کی کھال یا کھال بیچ کر اس کا دام مسجد میں دینا جائز ہے ۔ حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں “چرم قربانی کا صدقہ کرنا واجب نہیں بلکہ خود اپنے مصرف میں بھی لگا سکتا ہے مثلا اس کی جائے نماز یا جلد،یاچلنی،ڈول وغیرہ بنوا کر استعمال کر سکتا ہے-یا اسے کسی باقی رہنے والی چیز کے ساتھ بدل سکتا ہے۔ در مختار میں ہے”یتصدق بجلدھا او یعمل منہ نحو غربال او جراب ودلو، اویبدلہ بما ینتفع بہ باقیا کما مر ۔ اھ( فتاویٰ امجدیہ،ج ٣ ،ص٣٠٤) یوں ہی اسے ہر نیک کام میں لگا سکتا ہے ہے خواہ مدرسہ وہ مسجد میں دے ،یا کسی اور ثواب کے کام میں لگائے ۔ فتاوی ہندیہ میں ہے،،لو باعھابالدراھم لیتصدق بھا جاز لا نہ قربت کالتصدق کذا فی التبیین و ھکذا فی الھدایہ والکافی اھ ( ج ٥,ص٣٠١, باب السادس ، فی بیان مایستحب فی الاضحیتہ ) اور بزازیہ میں ہے “لو ان یبیعھا بالدراھم لیتصدق بھا ” اھ – واللہ تعالی اعلم الجواب صحیح: محمد نظام الدین رضوی برکاتی کتبہ : شمس الدین احمد علیمی ٥/محرم الحرام ١٤٢٦ھ
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat