صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #497 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

ٹیلیفون یا ویڈیو کال پر نکاح کا شرعی حکم

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: August 12, 2026
0 8,323

سوال (Question):

लड़का विदेश में है، کیا ٹیلیفون یا ویڈیو کال کے ذریعے براہ راست نکاح ہو سکتا ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

نکاح درست ہونے کے لیے ایجاب و قبول (مرد و عورت) اور دو گواہوں کا ایک ہی مجلس میں موجود ہونا شرط ہے۔ فون یا ویڈیو کال پر چونکہ مجلس ایک نہیں ہوتی، اس لیے براہ راست نکاح درست نہیں۔ اس کا جائز طریقہ یہ ہے کہ لڑکا فون پر لڑکی کے ملک میں کسی (مثلاً اپنے والد یا دوست) کو اپنا وکیل بنائے، پھر وہ وکیل گواہوں کے سامنے لڑکے کی طرف سے ایجاب و قبول کرے۔ واللہ اعلم۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat