بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-617 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
قرآن افضل ہے یا نبی کریم ﷺ
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام، اس مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ قران افضل ہے یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم،، میں نے ایک شخص سے سنا ہے، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ کو قران الکریم سے افضل بتایا ہے، کیا یہ صحیح ہے، میں نے سنا یے کہ قران مخلوق نہیں یے،اور نبی کریم مخلوق یے۔ سائل: مصباح الدین چینئ و علیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہالجواب ھو الھادی الی الصواب
ایسی کوئی روایت نہیں ہے جس میں نبی کریم نے فرمایا ہو کہ میں قران سے افضل ہوں ایک ایسے ہی سوال کے جواب میں مفتی شریف الحق رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اصل مسئلہ سمجھنے کے لیے پہلے قران کے دو اطلاق کو ذہن نشین کر لیجیے،۔ قران حقیقت میں اللہ عزوجل کا کلام اور اس کی صفت ہے، جو واجب قدیم غیر مخلوق ہے، یہ قران کا حقیقی معنی ہے، لیکن ہمارے عرف میں قران اس مصحف یعنی کتاب کو کہا جاتا ہے جس میں قرآن لکھا ہو، مثلاً بولتے ہیں، یہ قرآن مجید بہت خوب صورت لکھا ہوا ہے, اس قرآن مجید کا ہدیہ کیا ہے، فلاں نے قرآن مجید مسجد میں وقف کیا، قرآن مجید کی سنہری جلد بندھوادو وغیرہ و غیرہ، ان تمام محاورات میں قرآن سے مراد مصحف اور کتاب یے، اور یہ بلا شبہ حادث اور مخلوق ہے۔ قرآن مجید بہ معنی اول یعنی اللہ عزوجل کی صفت قدیم تمام مخلوقات سے حتی کے خود حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی افضل ہے. اس معنی کر کسی کو قرآن سے افضل بتانا کفر ہے۔ لیکن بہ معنی مصحف مخلوق اور حادث یے ۔ اس سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا افضل ہونا بلکل واضح ہے کیوں کہ امت کا اس پر اتفاق ہے، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام مخلوقات سے افضل ہیں ۔ مجدد اعظم اعلٰی حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، قرآن سے مراد اگر مصحف ہو یعنی کاغز روشنائی کتاب، تو کوئی شک نہیں کہ وہ حادث ہے، اور ہر حادث مخلوق ہے، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس سے افضل ہے،، اور قرآن سے مراد اللہ کا کلام اور اس کی صفت ہو تو کوئی شک نہیں کے اللہ تعالی کی صفات تمام مخلوقات سے افضل ہے اور جو غیر باری تعالی ہے وہ اس کے کیسے برابر ہو سکتا ہے جو اس کا غیر نہیں، اسلیے یہ کہنا کہ قرآن سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم افضل ہے ایک اعتبار سے کفر ہے جب کہ قائل کی نیت قرآن سے قرآن کا حقیقی معنی ہو۔ یعنی اللہ کا کلام جو اس کی صفت ہے ۔، اور قرآن سے اس کا عرفی معنی مراد ہو مصحف اور کتاب تو درست ہے، بہر حال ایسے کلام سے بچنا ضروری ہے جس کا ایک معنی کفر ہو اور جس سے عوام میں انتشار پیدا ہو فتاوی شارح بخاری جلد 1 صفحہ 275 واللہ اعلم بالصواب کتبہ : علامہ مفتی دانش حنفی ہلدوانی نینیتال
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ