دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1641
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
قبر پر سبز ٹہنی ڈالنا کیسا ہے ؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
4,535
سوال (Question):
قبر پر سبز ٹہنی ڈالنا کیسا ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
قبر پر سبز ٹہنی ڈالنا کیسا ہے ؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ : کیافرماتےہیں علمائےکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قبر پرسبز ٹہنی یا پھول ڈالنا کیا حدیث سےثابت ہے؟؟ وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ الجواب قبر پر سبز ٹہنی یا پھول ڈالنا جائزہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے: حدیث شریف :حضرت ابن عباس رضی ﷲ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے جن کو عذاب دیا جا رہا تھا۔ فرمایا: إِنَّهُمَا لَیُعَذَّبَانِ، وَمَا یُعَذَّبَانِ فِی کَبِیرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَکَانَ لاَ یَسْتَتِرُ مِنَ البَوْلِ، وَأَمَّا الآخَرُ فَکَانَ یَمْشِی بِالنَّمِیمَةِ، ثُمَّ أَخَذَ جَرِیدَةً رَطْبَةً، فَشَقَّهَا بِنِصْفَیْنِ، ثُمَّ غَرَزَ فِی کُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً، فَقَالُوا: یَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ صَنَعْتَ هَذَا؟ فَقَالَ: لَعَلَّهُ أَنْ یُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ یَیْبَسَا. یعنی ان کو عذاب دیا جا رہا ہے اور کبیرہ گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں دیا جا رہا، ایک پیشاب کے چھینٹوں سے احتیاط نہیں کرتا تھا اور دوسرا چغلی کھایا کرتا تھا۔ پھر آپ نے ایک سبز ٹہنی لی اور اس کے دو حصے کیے۔ پھر ہر قبر پر ایک حصہ گاڑ دیا۔ لوگ عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللہ یہ کیوں کیا؟ فرمایا کہ شاید ان کے عذاب میں تخفیف رہے جب تک یہ سوکھ نہ جائیں: (بخاری، الصحیح، کتاب الجنائز، باب الجرید علی القبر، 1: 458، رقم:1295) امام ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں: إِنَّ الْمَعْنَی فِیهِ أَنَّهُ یُسَبِّحُ مَا دَامَ رَطْبًا فَیَحْصُلُ التَّخْفِیفُ بِبَرَکَةِ التَّسْبِیحِ وَعَلَی هَذَا فَیَطَّرِدُ فِی کُلِّ مَا فِیهِ رُطُوبَةٌ مِنَ الْأَشْجَارِ وَغَیْرِهَا وَکَذَلِکَ فِیمَا فِیهِ برکَة کَالذِّکْرِ وَتِلَاوَةُ الْقُرْآنِ مِنْ بَابِ الْأَوْلَی. مطلب یہ کہ جب تک ٹہنیاں (پھول، پتیاں، گھاس) سر سبز رہیں گی، ان کی تسبیح کی برکت سے عذاب میں کمی ہوگی بنابریں درخت وغیرہ جس جس چیز میں تری ہے (گھاس، پھول وغیرہ) یونہی بابرکت چیز جیسے ذکر، تلاوت قرآن کریم، بطریق اولیٰ باعث برکت و تخفیف ہیں، وھو اولی ان ینتفع من غیرہ اس حدیث پاک کا زیادہ حق ہے کہ بجائے کسی اور کے اس کی پیروی کی جائے: (عسقلانی، فتح الباری، 1: 320) واللہ و ر سولہ اعلم بالصواب
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat