صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #441 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

سحری کا وقت ختم ہونے پر اذان کے دوران کھانا پینا

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: August 12, 2026
0 8,563

سوال (Question):

کیا فجر کی اذان شروع ہونے پر منہ میں موجود لقمہ چبا سکتے ہیں یا پانی پی سکتے ہیں؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

سحری کا وقت ‘صبح صادق’ طلوع ہوتے ہی ختم ہو جاتا ہے۔ اذان اسی وقت کے ختم ہونے کا اعلان ہے۔ اگر وقت ختم ہو چکا ہو تو منہ میں موجود لقمہ تھوکنا فرض ہے، اگر اسے نگل لیا یا پانی پی لیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور قضا لازم ہو گی۔ اذان ختم ہونے کا انتظار کرنا اور کھاتے رہنا سخت جہالت ہے۔ کیلنڈر کے وقت کی پابندی کریں۔ واللہ اعلم۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat