لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

کبوتر بازی اور پرندے پالنے کا شرعی حکم

کیا گھر میں طوطے یا کبوتر پالنا جائز ہے؟ اور کبوتر بازی کیسی ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

گھر میں طوطے، چڑیاں یا پرندے پالنا اس شرط پر جائز ہے کہ ان کی خوراک اور دانے پانی کا پورا خیال رکھا جائے اور انہیں تکلیف نہ ہو۔ کبوتر پالنا بھی جائز ہے، لیکن ‘کبوتر بازی’ (جس میں کبوتر اڑا کر شرطیں اور جوا لگایا جاتا ہے، چھتوں پر چڑھ کر ہمسایوں کی بے پردگی کی جاتی ہے اور نمازوں سے غفلت ہوتی ہے) قطعی حرام اور فاسقوں کا عمل ہے۔ شریعت میں کبوتر باز کی گواہی بھی قبول نہیں۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات