دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #528
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
کبوتر بازی اور پرندے پالنے کا شرعی حکم
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: August 12, 2026
0
5,992
سوال (Question):
کیا گھر میں طوطے یا کبوتر پالنا جائز ہے؟ اور کبوتر بازی کیسی ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
گھر میں طوطے، چڑیاں یا پرندے پالنا اس شرط پر جائز ہے کہ ان کی خوراک اور دانے پانی کا پورا خیال رکھا جائے اور انہیں تکلیف نہ ہو۔ کبوتر پالنا بھی جائز ہے، لیکن ‘کبوتر بازی’ (جس میں کبوتر اڑا کر شرطیں اور جوا لگایا جاتا ہے، چھتوں پر چڑھ کر ہمسایوں کی بے پردگی کی جاتی ہے اور نمازوں سے غفلت ہوتی ہے) قطعی حرام اور فاسقوں کا عمل ہے۔ شریعت میں کبوتر باز کی گواہی بھی قبول نہیں۔ واللہ اعلم۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat