بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2189 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
فرض نماز کی آخری دو رکعتوں میں سورت ملانا کیسا ہے ؟
سوال : منفرد نے نماز ظہر فرض پڑھی تین رکعتوں کو بھری پڑھی، چوتھی رکعت میں سورت نہیں ملائی رکوع و سجود کر کے نماز پوری کرلی تو اس کی نماز ادا ہوئی کی نہیں؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــ منفرد کی نماز بلاکراہت ادا ہوگی اس لیے کہ اسے فرض کی آخری دو رکعتوں میں سورت کا ملانا جائز ہے. نہ واجب ہے نہ مکروہ. لہذا دونوں رکعتوں میں ملائے یا ایک میں بہر صورت جائز ہے. البتہ صاحب حلیہ نے خلاف اولی کا افادہ فرمایا ہے. اور خلاف اولی وہ ہے کہ جس کا نہ کرنا بہتر اور کیا تو کچھ مضائقہ نہیں. بلکہ بعض ائمہ نے فرض کی آخری دو رکعتوں میں سورت ملانے کو مستحب ہونے کی تصریح فرمائی ہے. اور ظاہراً یہ استحباب صرف منفرد کے لئے ہے امام کے لیے ضرور مکروہ ہے بلکہ مقتدیوں پر گراں گزرے تو حرام ہے. در مختار میں ہے ضم سورۃ في الاولين من الفرض و هل يكره في الاخرين المختار لا. اور رد المحتار جلد اول ص 308 میں ہے في البحر عن فخر الاسلام ان السورۃ مشروعۃ في الاخریين نفلا وفي الذخيرۃ انه المختار وفي المحيط وهو الاصح والظاهر ان المراد بقوله نفلا الجواز والمشروعيۃ بمعنى عدم الحرمۃ فلا ينافي كونه خلاف الاولى كما افاده في الحليۃ ١ھ واللہ تعالی اعلم والیہ المرجع والمآب کتبـــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 242
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ