بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2369 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
فجر کی نماز میں جماعت کے وقت قرات سننا واجب ہے تو جو سنت میں مشغول ہو اس کا کیا حکم ہے
سوال : زید کہتا ہے کہ فجر کی نماز میں جماعت کے وقت قرات سننا واجب ہے جبکہ کچھ لوگ اس وقت فجر کی سنت ادا کرتے ہیں تو یہ کہاں تک درست ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــ ہر جہری نماز میں جب امام بلند آواز سے قرات کر رہا ہوں تو اس کو جو سن رہا ہو غور سے سننا واجب ہی نہیں بلکہ فرض ہے. اور جو لوگ دور ہوں سن نہیں پا رہے ہوں اور امام کی اقتدا میں نماز ادا کر رہے ہوں ان پر خاموش رہنا فرض ہے. حدیث پاک میں خاص سنت فجر کے تعلق سے بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے ۔ مسلم شریف میں ہے : عن عائشۃ رضی اللہ عنہا، عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال : رکعتا الفجر خیر من الدنیا وما فیھا ۔ اس لیے ہمارے علماء فرماتے ہیں کہ اگر جماعت فجر قائم ہو گئی اور کوئی تاخیر سے پہنچا اور ابھی اس نے سنت فجر ادا نہیں کی ہے تو جماعت سے دور کہیں مسجد کے کنارے کونے میں کھڑا ہوکر سنت فجر ادا کرے ۔ اور اس کے بعد آ کر جماعت میں شامل ہو جائے ۔ جماعت سے دور مسجد کے کنارے پڑھنے کی تاکید اسی لئے ہے تاکہ جماعت کی مخالفت اور استماع قرات کے ترک سے بچے ۔ واللہ تعالی اعلم کتبـــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ