دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1789
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
فجر کی سنت رہ گئی ہے تو اسے کب پڑھے؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
5,508
سوال (Question):
فجر کی سنت رہ گئی ہے تو اسے کب پڑھے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
فجر کی سنت رہ گئی ہے تو اسے کب پڑھے؟
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ فجر کی جماعت ہو رہی ہے کسی کو اتنا وقت نہیں ملا کہ سنت فجر پڑھ سکے فورا جماعت میں شامل ہو گیا. جماعت ہونے کے بعد طلوع آفتاب کے تیس منٹ باقی ہیں. اب جس کی فجر کی سنت رہ گئی تھی وہ طلوع آفتاب سے پہلے ادا کرے گا یا طلوع آفتاب کے کچھ دیر بعد؟ بینوا و توجروا الجوابـــــــــــــــــــــ صرف فجر کی سنت فوت ہوئی تو ان کی فضا آفتاب بلند ہونے کے بیس منٹ بعد نصف النہار شرعی سے پہلے پڑھ سکتا ہے. طلوع آفتاب سے پہلے ان کی قضا کرنا ہمارے ائمہ کرام کے نزدیک ناجائز و گناہ ہے. ایسا ہی فتاویٰ رضویہ جلد سوم صفحہ 618 میں ہے. اور حدیث شریف میں ہے ” حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” الصلاۃ بعد الصبح حتی ترتفع الشمس ولا بعد العصر حتی تغرب الشمس “ (بخاری شریف جلد اول صفحہ 82) اور حضرت علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں ” لا تقضی قبل الطلوع ولا بعد الزوال” (شامی جلد اول صفحہ 499) لہذا طلوع آفتاب کے بیس منٹ بعد اپنی چھوٹی ہوئی سنتوں کو پڑھنا چاہے پڑھ لے. واللہ تعالی اعلم الجواب صحیح :مفتی جلال الدین احمد الامجدی کتبہ : مفتی محمد عبد الحی قادری
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat