بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1223 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
فاسِق کے ذبیحہ کا حکم | کیا فاسق کا ذبح کیا یوا کھاناحلال ہے ؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ فاسق بندہ قربانی کا جانور ذبح کر سکتا ہے مطلب اس کا ذبیحہ حلال ہو گا یانہیں؟ (سائل حبیب الرحمن چکوال) وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ الجـــــوابــــــــــــ” بعون الملک الوھّاب فاسق قربانی کا جانور ذبح کرسکتا ہے اور اس کا ذبیحہ بھی حلال ہے کھانے میں کوئ حرج نہیں ہے- امام اہلسنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں، کہ دین سماوی شرط ہے اعمال شرط نہیں، فاسق ہے مستحق عذاب جہنم ہے، مگر اس کے ہاتھ کا ذبیحہ درست ہے- (فتاویٰ رضویہ جلد ۲۰، صفحہ۲۵۳- رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ کتبــــہ :ابورضامحمد عمران عطاری عفی عنہ
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ