لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

غیر مقلد عورت کے نکاح پڑھانے والے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

غیر مقلد عورت کے نکاح پڑھانے والے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں: زید حافظ قران ہے اور محلے کا امام بھی ہے اس نے ہندہ کا نکاح یہ جانتے ہوئے پڑھا دیا کہ یہ اہل حدیث ہے قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس نے ایک بار اور پڑھایا تھا تو اس کو ایک مفتی صاحب کا فتویٰ پڑھ کر سنایا گیا تھا لیکن اس نے اس پر عمل نہیں کیا اور پڑھا دیا اب زید پر کیا کیا حکم صادر ہوتا ہے؟ براۓ کرم قرآن کریم اور احادیث مبارکہ کی روشنی جواب مرحمت فرمائیں: المستفتی: محمد نوری منظری الجواب: اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز نے اپنے فتاوی میں علمائے حرمین طیبین کے حوالہ سے جا بجا وہابیہ غیر مقلدین کی تکفیر کی ہے۔اس لیے جو ان کو مسلمان سمجھ کر ان کا نکاح پڑھائے گا خود کافر ہوجائے گا۔ اور اگر کافر سمجھتے ہوئے نذرانہ وغیرہ کسی دنیاوی طمع میں نکاح پڑھایا تو گنہگار ہے اور جب وہ متعدد بار ایسا کرچکا ہے تو اس کو امام نہ بنایا جائے ۔ ہاں! سچی توبہ اور اصلاح حال کے بعد امام بنایا جاسکتا ہے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: "وہابیہ کفار مرتدین ہیں جیسا کہ علمائے حرمین شریفین کے فتوے ” حسام الحرمین” سے ظاہر ہے۔” (فتاوی رضویہ ج٣ ص٢٦٧) نیز تحریر فرماتے ہیں: "اب کبرائے وہابیہ نے کھلے کھلے ضروریاتِ دین کا انکار کیا اور تمام وہابیہ اُس میں اُن کے موافق یا کم از کم اُن کے حامی یا اُنھیں مسلمان جاننے والے ہیں اور یہ سب صریح کفر ہیں،تو اب وہابیہ میں کوئی ایسا نہ رہا جس کی بدعت کفر سے گری ہوئی ہو خواہ غیر مقلد ہو یا بظاہر مقلّد نسأل اﷲ العفو والعافیۃ۔” (فتاوی رضویہ ج٣ص١٧٠) اور تحریر فرماتے ہیں: "غیرمقلدین زمانہ بحکم فقہا وتصریحات عامہ کتب فقہ کافر تھے ہی، جس کا روشن بیان رسالہ الکوکبۃ الشھابیۃ ورسالہ السیوف ورسالہ النھی الاکید وغیرہا میں ہے اور تجربہ نے ثابت کردیا کہ وہ ضرور منکران ضروریات دین ہیں اور ان کے منکروں کے حامی وہمراہ، تویقینا قطعاً اجماعاً ان کے کفروارتداد میں شک نہیں۔” (فتاوی رضویہ ج٣ص٣۵۵) اور تحریر فرماتے ہیں: "اور اگر وہابیہ کو کافرجانتا ہے تو ان سے میل جول کے باعث جس میں سب سے بدتر اُن سے پڑھنا ہے سخت فاسق ہے امامت کے قابل نہیں، نماز اس کے پیچھے مکروہ تحریمی ہوگی۔” (فتاوی رضویہ ج ۴ ص٣٧۴) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ١۵/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ١٧/اپریل ٢٠٢٢ء

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات