لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

عدتِ طلاق اور عدتِ وفات کی مدت کی تفصیل

مطلقہ (جسے طلاق ہوئی) اور بیوہ کی عدت کتنے دن ہوتی ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

اگر عورت کو ماہواری آتی ہے تو طلاق کی عدت تین حیض (Periods) ہے۔ اگر ماہواری نہیں آتی تو 3 قمری مہینے عدت ہے۔ شوہر کے انتقال پر بیوہ کی عدت 4 مہینے 10 دن ہے۔ البتہ اگر عورت حاملہ ہو تو طلاق یا وفات دونوں صورتوں میں اس کی عدت بچہ پیدا ہونے تک ہے۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات