دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #500
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
پرائز بانڈ (Prize Bond) کے انعام کا حکم
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: August 12, 2026
0
8,800
سوال (Question):
کیا حکومت کی طرف سے ملنے والے پرائز بانڈ کا انعام حلال ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
پرائز بانڈ کی اصل رقم جو آپ نے دی ہوتی ہے وہ محفوظ رہتی ہے، اس لیے یہ جوا (Gambling) تو نہیں، لیکن حکومت ان جمع شدہ رقوم کو سودی کاموں میں استعمال کر کے اس کے منافع سے انعام دیتی ہے، اس لیے شرعاً یہ انعام سود کے زمرے میں آتا ہے اور اس کا استعمال قطعی حرام ہے۔ اگر انعام نکل آئے تو اسے بغیر ثواب کی نیت کے غریبوں پر صدقہ کرنا واجب ہے۔ واللہ اعلم۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat