صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #442 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

کرائے کے مکان یا پلاٹ پر زکوٰۃ کا حکم

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: August 12, 2026
2 22

سوال (Question):

میرے دو مکان ہیں، ایک میں خود رہتا ہوں اور دوسرا کرائے پر دیا ہے، کیا ان پر زکوٰۃ ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

رہائشی مکان اور کرائے پر دیے گئے مکان کی مالیت (Value) پر کوئی زکوٰۃ نہیں ہے۔ البتہ کرائے پر دیے گئے مکان سے جو ماہانہ کرایہ آتا ہے، اگر وہ سال کے آخر میں آپ کی دیگر قابلِ زکوٰۃ رقم کے ساتھ موجود ہو (نصاب کو پہنچتا ہو)، تو اس جمع شدہ رقم پر ڈھائی فیصد زکوٰۃ واجب ہو گی۔ مکان پر زکوٰۃ نہیں۔ واللہ اعلم۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat