بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1697 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
غسل کا مسنون طریقہ کیا ہے ؟| غسل کا صحیح طریقہ
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ غسل کا مختصر طریقہ کیاہے؟ (سائل محمد امجد ضلع سرگودھا پاکستان ) وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ الجـــــوابــــــــــــ بعون الملک الوھّابغسل کا طریقہ حنفی
بغیر زبان ہلائے دل میں اس طرح نیت کیجئے کہ میں پاکی حاصل کرنے کے لئے غسل کرتا ہوں..پہلے دونوں ہاتھ پہنچوں تک تین تین بار دھوئیں ، پھر استنجے کی جگہ دھوئیں خواہ نجاست ہویانہ ہو، پھرجسم پر اگر کہیں نجاست ہو تو اس کو دور کیجئے پھر نماز کا سا وضوکیجئے مگر پاؤں نہ دھوئیے، ہاں اگر چوکی وغیرہ پر غسل کررہے ہیں تو پاؤں بھی دھو لیجئے، پھر بدن پرتیل کی طرح پانی چپڑ لیجئے ، خصو صاً سرد یوں میں (اس دوران صابن بھی لگاسکتے ہیں)پھر تین بار سید ھے کندھے پر پانی بہایئے، پھر تین بار الٹے کندھے پر، پھر سر پر اورتمام بدن پرتین بار، پھر غسل کی جگہ سے الگ ہوجائیے،اگر وضوکرنے میں پاؤں نہیں دھوئے تھے تو اب دھو لیجئے ۔نہانے میں قبلہ رخ نہ ہوں ،تمام بدن پرہاتھ پھیر کرمل کرنہائیے. (نمازکےاحکام صفحہ100مکتبۃ المدینہ) (بہارِ شریعت.حصہ2غسل کابیان)غسل کے تین فرائض
(1⃣)::کلی کرنا:: (2⃣)ناک میں پانی چڑھانا) (3⃣)تمام ظاہر بدن پر پانی بہانا) کتبــــــــــــــــــــــہ : ابورضا محمد عمران عطاری مدنی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ