لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

غسل میں کتنے فرائض ہیں؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

غسل میں کتنے فرائض ہیں؟

الجوابــــــــــــــــــــ غسل میں تین فرض ہیں. اول) کلی کرنا یعنی منہ کے ہر پرزے گوشے حلق کی جڑ تک ہر جگہ پانی بہہ جائے. دوم) ناک میں پانی ڈالنا یعنی ناک کے دونوں نتھنوں میں جہاں تک نرم جگہ ہے (سخت ہڈی تک دھنا) سوم) تمام ظاہری بدن پر پانی کا بہہ جانا یعنی سر کے بالوں سے تلووں کے نیچے تک جسم کے ہر پرزے رونگٹے کی بیرونی سطح پر پانی کا بہہ جانا. در مختار مع شامی جلد اول صفحہ 111 میں ہے ” فرض الغسل غسل کل فمہ وانفہ حتی ما تحت الدرن وبدنہ لا دلکہ ویفرض غسل کل ما یمکن من البدن بلا حرج مرۃ. ١ھ. اور حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ غسل کے تین جز ہیں. اگر ان میں سے ایک میں بھی کمی ہوئی غسل نہ ہوگا چاہے یوں کہو کہ تین فرض ہیں (1) کلی کہ منہ کے ہر پرزے گوشے ہونٹ سے حلق کی جڑ تک ہر جگہ پانی بہہ جائے. (2) ناک میں پانی ڈالنا یعنی دونوں نتھنوں کا جہاں تک نرم جگہ ہے اس کا دھلنا کہ پانی کو سونگھ کر او پر چڑھائے بال برابر بھی جگہ بھی دھلنے سے رہ نہ جائے ورنہ غسل نہ ہو گا. ناک کے اندر رینٹھ سوکھ گئی ہے تو اس کا چھڑانا فرض ہے نیز ناک کے بالوں کا دھونا بھی فرض ہے. (3) تمام ظاہری بدن یعنی سر کے بالوں سے تلووں تک جسم کے ہر پرزے رونگٹے پر پانی بہہ جانا. بہار شریعت حصہ دوم صفحہ 34 مزید تفصیل کے لئے فتاویٰ رضویہ جلد اول صفحہ 94 ملاحظہ فرمائیں. واللہ تعالیٰ اعلم ۔ کتبہ : مفتی محمد سمیر الدین حبیبی مصباحی الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات