لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

غرور حوروں کا توڑ ڈالا لگا کے ماتھے پہ تل خدانے یہ شعر پڑھنا کیسا؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

غرور حوروں کا توڑ ڈالا لگا کے ماتھے پہ تل خدانے یہ شعر پڑھنا کیسا؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس شعر کے بارے میں غور حوروں کا توڑ ڈالا لگا کے ماتھے پہ تل خدا نے جو کالے رنگ کا بلال آیا کمال آیا یہ پوچھنا کیسا ہے؟ الجواب بعون الملک الوھّاب سوال میں ذکر کردہ شعر پڑھنا درست نہیں ہے انتہائی غیر مناسب ہے، اس میں حوروں کی طرف غرور کرنے کی نسبت کی گئی ہے (معاذاللہ) بندہ اس شاعر سے پوچھے کہ حوروں نے کونسا غرور کیا ہے جو آپ نے حوروں کو مغرور کہا ہے( معاذاللہ) جو کہ عیب ہے قرآن و حدیث میں یہ بات واضح ہے کہ حوریں ایسے عیوب سے پاک ہونگی۔ اور پھر نبی کریم علیہ السلام کے پیارے صحابی حضرت بلال رضی اللہُ تعالیٰ عنہ کو کالا کہا جارہا ہے حالانکہ صحیح تحقیق یہ ہے کہ آپ کا رنگ سیاہ کالا نہیں تھا بلکہ گندمی رنگ کے تھے، المختصر یہ شعر پڑھنا جائز نہیں ہے- واللہ اعلم عزوجل و ر سولہ اعلم ﷺ کتبہ: ابو رضا محمد عمران عطاری عفی عنہ متخصص فی الفقہ

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات