لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

عید غدیر کی مبارک باد دینا کیسا ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

عید غدیر کی مبارک باد دینا کیسا ہے؟

مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی حضور آج کے دن لوگ عید غدیر کی مبارک باد دیتے ہیں اس کا شرعاً کیا حکم ہے؟ المستفتی محمد آفاق رضا نان پارہ بہرائچ یوپی انڈیا۔ الجواب-بعون الملک الوھاب عید غدیر روافض کی عید ہے اہل سنت کی نہیں اور روافض زمانہ اپنے عقائد کفریہ کی بنا پر کافر و مرتد ہیں اور کفار و مرتدین کے کسی بھی مذہبی تہوار میں شرکت کسی طور پر جائز نہیں حضور اکرم صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:  ” مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ ” (سنن ابي داؤد، كِتَاب اللِّبَاسُ، بَابٌ فِي لُبْسِ الشُّهْرَةِ رقم الحدیث ٤٠٣١) یعنی جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہیں میں سے ہے۔ اور ارشاد فرمایا: "من کثر سواد قوم فھو منھم” اھ (اتحاف السادۃ المتقین، ج١٢، ص٢٤، کتاب التوحید والتوکل، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان) یعنی جس نے کسی قوم کی تعداد بڑھائی وہ انہیں میں سے ہے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا رضی ﷲ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں:”مشرکین کے تہوار کی خوشی منانا ان کے ایسے افعال ملعونہ میں شرکت کرنا معصیت قطعیہ ہے۔” اھ (فتاوی رضویہ جدید، ج٢١، ص١٦٦، کتاب الحظر والاباحۃ، رضا فاؤنڈیشن لاہور) لہٰذا صورت مستفسرہ میں عید غدیر جو رافضیوں کاتہوار ہے کی مبارک باد دینا جائز نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔ کتبہ :محمد صدام حسین برکاتی فیضی اشرفی میرانی۔ صدر شعبہ افتاء وشیخ الحدیث میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات