دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1716
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
عورت کی جماعت کا حکم | کیا عورت جماعت کروا سکتی ہے یا نہیں ؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
4,200
سوال (Question):
عورت کی جماعت کا حکم | کیا عورت جماعت کروا سکتی ہے یا نہیں ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
عورت کی جماعت کا حکم | کیا عورت جماعت کروا سکتی ہے یا نہیں ؟
السلام علیکم ورحمتہ اللہْ علماء کرام کی بارگاہ میں میرا سوال ہے کہ کیا عورت جماعت کروا سکتی ہے یا نہیں اگر نہی کرواسکتی تو وجہ اگر کرواسکتی ہے تو کس کس کی اور کہاں پر جماعت کرواۓ گی۔۔۔۔۔مکمل مفصل جواب عنایت فرمائیں ۔۔ محمد ساجد قادری۔۔ جموں و کشمیر الجواب بعون الملک الوھاب عورتوں کی جماعت مکروہ تحریمی ہے چاہے وہ فرض نماز ہو یا غیر فرض، مسجد میں ہو یا گھر میں. اعلاءالسنن میں ہے : عن علي بن أبي طالب رضي اللّٰه عنه أنه قال: لا تؤم المرأة. (إعلاء السنن ۴؍۲۲۷ دار الکتب العلمیة بیروت) “الفتاوی الھندیۃ “میں ہے: ویکرہ امامۃ المرءۃ للنساء فی الصلوت کلھا من الفرائض والنوافل. (جلد اول،، صفحہ ۵۸) فتاوی شامی میں ہے: ” ویکره تحریماً جماعة النساء ولو في التراویح ۔ فإن فعلن تقف الإمام وسطهن فلو قدمت أثمت”.(ج ٢ /٣٠٥) “تبیین الحقائق ” میں ہے: کرہ جماعۃ النساء وحدھن لقولہ علیہ السلام صلاۃ المرءۃ فی بیتھاافضل من صلاتھا فی حجرتھا وصلاتھا فی مخدعھا افضل من صلاتھا فی بیتھا”(جلد اول،صفحہ ۸۴۳) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ: کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی ٣شعبان ١٤٤٣/ ٧مارچ ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat