بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2443 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
عورت کا سر کے بال کاٹنا کیسا ہے ؟
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ ایک خاتون کے بال موٹے ہوگئے ہیں اور ان کی نشوونما رک گئی ہے تو علاج کے طور پر انہیں کاٹنا جائز ہے یا نہیں؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــ نہیں، عورتوں کو سر بال کاٹنے کی اجازت نہیں. بال موٹے ہو ں یا پتلے ہوں ۔ فقہاے کرام نے عورتوں کو بال کاٹنے سے منع فرمایا ہے ، لہذا شریعت جس کام سے منع کرے عورتوں کو ایسے کاموں سے ضرور بچنا چاہئے ۔ واللہ تعالی اعلم کتبــــــــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ