بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2508 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
عورت اپنی شادی میں کتنے مہر کا مطالبہ کر سکتی ہے؟
الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــ مہر عورت کا حق ہے، وہ اپنی شادی میں جتنا چاہے مہر مانگ سکتی ہے وہ چاہے تو مہر فاطمی کا مطالبہ کرے ۔ مگر اس کے لیے شوہر کی رضا مندی ضروری ہے ،اسے جو بھی مانگنا ہے مانگ سکتی ہے ، لیکن جتنے پر میاں بیوی کا اتفاق ہو جائے اتنا ہی مقرر کیا جائے ۔ مہر زیادہ سے زیادہ مقرر کرنا چاہیے۔ قرآن مجید میں مہر کے لیے” قنطار” کا لفظ آیا ہے یعنی "مال کثیر” خود ازواج مطہرات کے مہر اچھی مقدار میں تھے۔ حضرت سیدتنا فاطمہ الزہرارضی اللہ تعالی عنہا کا جو مہر مقرر ہوا تھا وہ ایک کلو آٹھ سو چھیاسٹھ گرام ، دو سو چالیس ملی گرام (1866,240g) چاندی تھا۔ لیکن آج کے زمانے میں مہر کی حیثیت گھٹا دی گئی ہے اور لوگ مہر کے تعلق سے بخل سے کام لے رہے ہیں اس لیے عورتوں کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ مہر کا مطالبہ کریں کریں ۔ والله تعالى اعلم بالصواب کتبـــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ