بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-389 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
اگر غسل خانہ بالکل بند ہے اور کوئی دیکھ نہیں سکتا، تو وہاں بالکل برہنہ ہو کر نہانا شرعاً جائز ہے، اس سے غسل ہو جاتا ہے۔ لیکن فرشتوں کی حیا اور ادب کا تقاضا ہے کہ ستر کے حصے پر کوئی کپڑا لپیٹ کر یا نیکر پہن کر نہایا جائے۔ ننگے سر نہانے میں کوئی حرج نہیں۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ